مِری آنکھوں میں جو منظر جڑا ہے
وہ دنیا کی بصارت سے بڑا ہے
مِری تقدیر تھی تحریر اس پر
جو آتشدان میں کاغذ پڑا ہے
یہ دنیائے مکافاتِ عمل ہے
سو اب کی بار وہ تنہا کھڑا ہے
تلاطم ہے چنابِ وقت میں تو
مِرے پہلو میں بھی پکا گھڑا ہے
یہ جو ناراض بیٹھا ہے میرا دل
یہ تیرے واسطے مجھ سے لڑا ہے
شمامہ افق
No comments:
Post a Comment