Monday, 8 February 2021

چمن میں پھر بہار آئی گلوں میں پھر نکھار آیا

 چمن میں پھر بہار آئی، گلوں میں پھر نکھار آیا

مگر اس بار بھی دیکھو نہ ملنے میرا یار آیا

میں لوگوں کو عطا کرتی رہی خوشیوں کے ہر لمحے

مگر میرے مقدر میں ہمیشہ انتظار آیا

خدا کی ذات پر تیرا یقیں پختہ نہیں ہے کیا؟

بتا کیسے تِرے من میں یہ مرنے کا وچار آیا؟

جدائی وقت جب روتے سے یکدم ہنس پڑا پاگل

مِری آنکھوں کی بینائی کو اس پہ اور پیار آیا

خوشی قائم رہے بیٹی کی سو بوڑھی فقیرن نے

رکھا داماد کے ہاتھوں میں پیسہ، جتنی بار آیا

وہ پیپل پیڑ نیچے کہہ رہے تھے ہائے رے بیٹی

سو دقیانوس کتوں کو مِرا غصہ سدھار آیا

جواں نکڑ پہ بیٹھے لوگوں پہ جب بس نہ چل پایا

وہ بزدل اپنا غصہ اپنی بیوی پر اتار آیا

تمہیں تکلیف اتنی ہی ملے گی جتنی طاقت ہے

اس اک آیت سے میرے ضبط میں زویا نکھار آیا


زویا شیخ

No comments:

Post a Comment