ہمیشہ خونِ شہیداں کے رنگ سے آباد
یہ کربلائے معلٰی یہ بصرہ و بغداد
جہاں کو پھر سے نویدِ بہار دیتے ہیں
ابو غریب کی جیلوں کے کچھ ستم اِیجاد
حیات و مرگ کے سب مرحلے تمام ہوئے
کفن لپیٹ کے نکلے ہیں ہر چہ بادا باد
پرانی بستیاں خاک و خوں میں غلطاں ہیں
"کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد"
لبوں پہ خیر کے نعرے ہیں اور کچھ بھی نہیں
دلوں میں جاگ رہا ہے ضمیرِ ابنِ زیاد
عراق خوِن شہیداں سے سرخرو ہو گا
بموں کے ڈھیر ہیں لانچر ہیں تیشۂ فرہاد
پہنچ گئے ہیں ہم ایسے دیار میں کہ وحید
جہاں گناہ تو لازم ہیں، نیکیاں برباد
وحید قریشی
No comments:
Post a Comment