Saturday, 20 March 2021

دوا بغیر کوئی طفل مر گیا تو کیا ہوا

 دوا بغیر کوئی طفل مر گیا تو کیا ہُوا

بس ایک پھول ہی تو تھا بکھر گیا تو کیا ہوا

کبھی کبھی تو روشنی بھی اک عذابِ جاں ہوئی

وہ چاندنی سے تیری کوکھ بھر گیا تو کیا ہوا

نہ رات ہی سنور گئی نہ روشنی ہی مر گئی

اندھیری باؤلی میں چاند اتر گیا تو کیا ہوا

کمال جگنوؤں کا تھا کہ روشنی میں کھو گئے

فریب اپنے سائے ہی سے ڈر گیا تو کیا ہوا

مِرے لیے تو خواب ایک چشمۂ حیات تھا

کسی کو خواب خواب تھا بکھر گیا تو کیا ہوا

نہ میں کوئی سوار ہوں نہ کوئی مالدار ہوں

اِدھر رہا تو کیا ہوا، اُدھر گیا تو کیا ہوا


باقر نقوی

No comments:

Post a Comment