Saturday, 20 March 2021

پہلے تو اس کی ذات غزل میں سمیٹ لوں

 پہلے تو اس کی ذات غزل میں سمیٹ لوں

پھر ساری کائنات غزل میں سمیٹ لوں

ہوتے ہیں رونما جو زمانے میں روز و شب

وہ سارے حادثات غزل میں سمیٹ لوں

پہلے تو میں غزل میں کہوں اپنے دل کی بات

پھر سب کے دل کی بات غزل میں سمیٹ لوں

کوئی خیال ذہن سے بچ کر نہ جا سکے

سارے تصورات غزل میں سمیٹ لوں

مقبول بارگاہِ رسالتؐ ہوں میرے شعر

سرمایۂ نجات غزل میں سمیٹ لوں

جوہر وہ بات جس کا تعلق ہو زیست سے

ایسی ہر ایک بات غزل میں سمیٹ لوں


جوہر بجنوری

چندر پرکاش

No comments:

Post a Comment