Saturday, 10 April 2021

جب ڈوبنے والی ہستی کو

 ہم لوگ


جب ڈوبنے والی ہستی کو

سانسوں کی شکستہ کشتی کو

تنکے کا سہارا کافی ہو

ساحل سے اشارہ کافی ہو

ہم رسموں اور رواجوں کو

زنجیر بنا کر پیروں کی

ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیتے ہیں


نسرین سحرش

No comments:

Post a Comment