Saturday, 10 April 2021

ہے حقیقت ایک لیکن کتنے افسانے بنے

 ہے حقیقت ایک لیکن کتنے افسانے بنے

سینکڑوں کعبے بنے لاکھوں صنم خانے بنے

ابتدا یہ تھی کہ ہم بننے چلے تھے ہوش مند

انتہا یہ ہے کہ بنتے بنتے دیوانے بنے

کچھ نا کہہ قاصد دیا اس سنگدل نے کیا جواب

اپنی جانِ ناتواں پر کیا خدا جانے بنے

ان کے ہی اسمِ گرامی کا فقط چرچا نہیں

کچھ ہمارے نام نامی سے بھی افسانے بنے

چہرۂ گلگوں ساقی سے جو ٹپکی مئے بنی

مست آنکھوں سے جو نکلے ڈھل کے پیمانے بنے

پوچھتے ہیں کس تجاہل سے کہ یہ مسلم کون ہے

اف رے ہم شہرِ بتاں میں ایسے بے گانے بنے


مسلم مالیگانوی

No comments:

Post a Comment