Saturday, 12 June 2021

شوق آوارہ یوں ہی خاک بسر جائے گا

 شوق آوارہ یوں ہی خاک بہ سر جائے گا

چاند چپکے سے کسی گھر میں اتر جائے گا

اس کی صحبت بھی ہے اک خواب سرا میں رہنا

وہ جو چل دے گا تو یہ خواب بکھر جائے گا

وقت ہر زخم کا مرہم ہے، پہ لازم تو نہیں

زخم جو اس نے دیا ہے کبھی بھر جائے گا

جنس تازہ کے خریدار پڑے ہیں ہر سو

کیسے بے کار مِرا حرف ہنر جائے گا

ناخدا کشتی میں سوراخ کیے جاتا ہے

ہم بھی ڈوبیں گے وہیں آپ جدھر جائے گا

شوق دیدار میں اس سرو رواں کے شاہد

موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا


صدیق شاہد

No comments:

Post a Comment