Saturday, 12 June 2021

آنکھوں کو رتجگوں کے عذابوں میں چھوڑ کر

 آنکھوں کو رتجگوں کے عذابوں میں چھوڑ کر

نیندیں چرا کے لے گیا خوابوں میں چھوڑ کر

جھونکا ہوا کا لے گیا خوشبو کو اپنے ساتھ ۔

سوکھے ہوئے گلاب کتابوں میں چھوڑ کر

اے عشق تیرا قرض بھی ہم نے چکا دیا

اپنی وفا کو زندہ نصابوں میں چھوڑ کر

جانے وہ مجھ سے ہاتھ چھڑا کر کہاں گیا

اس شہر ِ بے اماں کے خرابوں میں چھوڑ کر

صحرا ئے ہجر میں ہمیں زخموں کی دی ردا

گم ہو گیا کہیں وہ سرابوں میں چھوڑ کر

دامن میں لے کے سارے خسارے میں آ گئی

سود و زیاں کے اس کو حسابوں میں چھوڑ کر


فوزیہ شیخ

No comments:

Post a Comment