آنکھوں کو رتجگوں کے عذابوں میں چھوڑ کر
نیندیں چرا کے لے گیا خوابوں میں چھوڑ کر
جھونکا ہوا کا لے گیا خوشبو کو اپنے ساتھ ۔
سوکھے ہوئے گلاب کتابوں میں چھوڑ کر
اے عشق تیرا قرض بھی ہم نے چکا دیا
اپنی وفا کو زندہ نصابوں میں چھوڑ کر
جانے وہ مجھ سے ہاتھ چھڑا کر کہاں گیا
اس شہر ِ بے اماں کے خرابوں میں چھوڑ کر
صحرا ئے ہجر میں ہمیں زخموں کی دی ردا
گم ہو گیا کہیں وہ سرابوں میں چھوڑ کر
دامن میں لے کے سارے خسارے میں آ گئی
سود و زیاں کے اس کو حسابوں میں چھوڑ کر
فوزیہ شیخ
No comments:
Post a Comment