محفوظ رہیں گے، جو محبت میں رہیں گے
باقی کے سبھی لوگ مصیبت میں رہیں گے
وہ سارا علاقہ ہے مِرے گاؤں کا حصہ
یہ پھول جہاں تک تِری سنگت میں رہیں گے
دیواریں نیا رنگ طلب کرنے لگی ہیں
کیا لوگ تمہارے اسی حالت میں رہیں گے
اس دل کی فضا نے تو بدلنا نہیں، پھر بھی
کچھ دیر درختوں کی رفاقت میں رہیں گے
میں جھیل کو سمجھا دوں گا تیرے متعلق
یہ کشتی، کنارے تِری خدمت میں رہیں گے
اے حُسنِ فسوں کار! تِری خیر ہو لیکن
اس بار کسی دوسری حیرت میں رہیں گے
حسن ظہیر راجا
No comments:
Post a Comment