Saturday, 12 June 2021

ادا نرالی تھی انداز کافرانہ تھا

 ادا نرالی تھی، انداز کافرانہ تھا

غضب کا حسن قیامت کا مسکرانا تھا

اگر ہماری وفاؤں کا آزمانا تھا

تمہیں نہ اپنی جفاؤں سے باز آنا تھا

چمن میں یوں تو نشیمن تھے اور بھی لیکن

جو نذرِ برق ہوا میرا آشیانہ تھا

نگاہ ملتے ہی دل میرا ہو گیا گھائل

کسی کے تیرِ نظر کا غضب نشانہ تھا

اگر نہ تھی تمہیں منظور میری بربادی

تو میرے حال پہ تم کو نہ مسکرانا تھا

گزار دی غمِ دوراں میں زندگی اپنی

میرے نصیب میں شاید نہ مسکرانا تھا

ازل سے دل میں محبت تھی موجزن اختر

میرا مزاج لڑکپن سے عاشقانہ تھا


وکیل اختر

No comments:

Post a Comment