گویا نہ تھا وہ چاند تو ہالے نے بات کی
وہ چپ رہا تو کان کے بالے نے بات کی
اس کی طرف سے دیدۂ نم نے کِیا کلام
میری طرف سے پاؤں کے چھالے نے بات کی
ایسا لگا کہ تُو نے مخاطب کیا مجھے
جب مجھ سے تیرے چاہنے والے نے بات کی
بے اختیار ہو کے ملایا جو اس نے ہاتھ
ایسا لگا کہ روئی کے گالے نے بات کی
تنہائی کے سفر میں خاموشی سے رات بھر
ساقی نے، مے کدے نے، پیالے نے بات کی
کنگن کھنک اُٹھا، کبھی چوڑی چھنک اُٹھی
تو نے نہیں تو تیرے حوالے نے بات کی
جب بھی سخن کیا تو صبا نے سخن کیا
جب بات کی تو دن کے اجالے نے بات کی
جاوید صبا
No comments:
Post a Comment