Friday, 18 June 2021

بس اس قدر ہی قید تھی بقدر ظرف کاٹ لی

 الوداع


بس اس قدر ہی قید تھی

بقدرِ ظرف کاٹ لی

بس اس قدر ہی عشق تھا

بقدرِ شوق سہ لیا

اور اب مآلِ کار ہم

غبار میں نہیں رہے

خمار میں نہیں رہے

سو آج ہم تِرے کسی

حصار میں نہیں رہے


مقصود وفا

No comments:

Post a Comment