Thursday, 17 June 2021

خیر کی نذر کی ہے یا شر کی

 خیر کی نذر کی ہے یا شر کی

اک یہ پونجی تھی زندگی بھر کی

سارے رستے بجھا دئیے میں نے

اک گلی خواب کی منور کی

تجھ کو اتنے تو بل میں دے لیتا

جتنی شکنیں ہیں میرے بستر کی

یہ مِرا دل، یہ ریگزارِ فراق

دیکھ لے آب اس سمندر کی

پیٹھ موڑے ہوئے ہر اک دیوار

بھاگنا چاہتی ہے اس گھر کی


کاشف رضا

No comments:

Post a Comment