خیر کی نذر کی ہے یا شر کی
اک یہ پونجی تھی زندگی بھر کی
سارے رستے بجھا دئیے میں نے
اک گلی خواب کی منور کی
تجھ کو اتنے تو بل میں دے لیتا
جتنی شکنیں ہیں میرے بستر کی
یہ مِرا دل، یہ ریگزارِ فراق
دیکھ لے آب اس سمندر کی
پیٹھ موڑے ہوئے ہر اک دیوار
بھاگنا چاہتی ہے اس گھر کی
کاشف رضا
No comments:
Post a Comment