Thursday, 17 June 2021

میری رسوائی کا یوں جشن منایا تم نے

 میری رُسوائی کا یوں جشن منایا تم نے

ریت پر نام لکھا، اور مٹایا تم نے

فکر کی دُھوپ میں جھُلسی ہوں کئی صدیوں تک

میں نے پایا ہے تمہیں، مجھ کو نہ پایا تم نے

میں نے جب چاہا بھُلا دوں تِری یادوں کو تبھی

پیار کا گیت مجھے آ کے سنایا تم نے

عشق نے سُدھ ہی بھُلا دی تھی مِرے تن من کی

ٹوٹ ہی جاتی مگر مجھ کو بچایا تم نے

وقت نے مجھ سے اسی وقت ہنسی چھینی ہے

جب بھی روتی ہوئی آنکھوں کو ہنسایا تم نے

احتیاطوں نے مِرے پاؤں وہیں روک لیے

جب مِری سمت کبھی ہاتھ بڑھایا تم نے


سیا سچدیو

No comments:

Post a Comment