کرو گے کیا بچھڑنا پڑ گیا تو
محبت سے مُکرنا پڑ گیا تو
تمہیں ہم جاں سمجھتے ہیں کسی دن
ہمیں جاں سے گزرنا پڑ گیا تو
فلک زادو! بتاؤ کیا کرو گے
زمیں پر پاؤں دھرنا پڑ گیا تو
جسے مُٹھی میں رکھتے ہو اسی کی
لکیروں سے نکلنا پڑ گیا تو
محبت ریزہ ریزہ چُن رہے ہیں
جو اس کو پھر بکھرنا پڑ گیا تو
تعلق کی یہ جس چوٹی پہ ہم ہیں
مجھے تنہا اُترنا پڑ گیا تو
وہ پتھر بن کے بیٹھا ہے خفا سا
اگر پتھر پہ جھرنا پڑ گیا تو
فوزیہ شیخ
No comments:
Post a Comment