وہ کرے گا سن کے سوال کیا
مِرے غم کا اس کو ملال کیا
جو غرض کی آگ میں جل گیا
اسے دوستی کا خیال کیا
کبھی دور جا کے بھی دیکھ لو
ہے بچھڑ کے جینا محال کیا
مجھے اپنی آن عزیز ہے
کروں کوئی اس سے سوال کیا
جسے اپنے درد سے پیار ہے
اسے فکرِ ہجر و وصال کیا
سحر علی
No comments:
Post a Comment