Friday, 18 June 2021

نسخے میں طبیبوں نے لکھا اور ہی کچھ ہے

 نسخے میں طبیبوں نے لکھا اور ہی کچھ ہے

بیمارِ محبت کی دوا اور ہی کچھ ہے

اغیار سے تھیں میرے ستانے کی صلاحیں

اور میں نے جو پوچھا تو کہا اور ہی کچھ ہے

کہتے ہیں وہ گھبرا کے مجھے دیکھ کے غش میں

مر جائیں گے یہ ان کو ہوا اور ہی کچھ ہے

مانگے کوئی دولت، کوئی عزت، کوئی جنت

اور عاشقِ بے دل کی دعا اور ہی کچھ ہے

اعداء کی ملاقات سے انکار مسلّم

کیا کہئے مگر ہم نے سنا اور ہی کچھ ہے

ہر چند قیامت ہے تِری چشم کی شوخی

شوخی میں مگر رنگِ حیا اور ہی کچھ ہے

ہاں زمزمۂ بلبل و قمری نہ پہ جانا

رونق دلِ ناداں کی صدا اور ہی کچھ ہے


رونق ٹونکوی

No comments:

Post a Comment