Sunday, 20 June 2021

لیجئے فرصت ہی فرصت ہو گئی

 ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی

لیجئے فرصت ہی فرصت ہو گئی

کون سمجھائے در و دیوار کو

جن کو تیرے دید کی لت ہو گئی

ہم نہیں اب بارشوں کے منتظر

اب ہمیں صحرا کی عادت ہو گئی

سرحدوں کی بستیوں سا دل ہوا

وحشتوں کی جن کو عادت ہو گئی

ساحلوں پر کیا گھروندوں کا وجود

ٹوٹنا ہی ان کی قسمت ہو گئی

راحتوں کی بھی طلب باقی نہیں

درد سے ایسے محبت ہو گئی


نینا سحر

No comments:

Post a Comment