Tuesday, 22 June 2021

پروں کو مرے تم نہ ریشم کی ڈوری سے باندھو

 مِرے پر نہ باندھو


پروں کو مِرے تم نہ ریشم کی ڈوری سے باندھو

نہ کاٹو انہیں تم

کہ مجھ کو بھی اُڑنے دو اونچی اُڑان

میں تتلی ہوں ایسی

کہ جس کے پروں سے

چمکتی جھمکتی ہیں

رنگوں کی موجیں

یہ موجیں مِری راہ کی مشعلیں بن گئی ہیں

مٹائیں گی جو تیری میری تیرہ شبوں کی

دھندلکے مٹائیں گی صبحوں کے میری

پروں کو مِرے تم نہ ریشم کی ڈوری سے باندھو

نہ کاٹو انہیں تم

کہ ان ہی سنہری پروں کے سہارے

مجھے پار کرنا ہے اس رائیگاں دشت کو

اور خیالوں کے ایسے جزیرے میں جانا ہے

جس تک کسی کی رسائی بھی ممکن نہیں ہے

مِرے واسطے جو ہمیشہ سے نادیدنی ہے

مگر میں نے بخشے ہیں اس کو خیالوں کے رنگین پیکر

اُترنا ہے اس دیس میں

جس کے پھولوں کی خوشبو

مِری منتظر ہے

رنگوں کے پیکر مِرے منتظر ہیں

مجھے ڈھونڈتے ہیں

وہاں عندلیبوں کے نغمے

اسی دیس میں

کتنی نوخیز کلیوں کے رنگیں بدن میں مچلتی ہوئی

کتنی منہ زور خوشبوئیں

بندِ قبا توڑنے کو ہیں بے چین

سب استعارے مِرے واسطے ہیں نئی زندگی کے

بلاتے ہیں مجھ کو

پروں کو مِرے تم نہ ریشم کی ڈوری سے باندھو

نہ کاٹو انہیں تم


غزالہ تبسم خاکوانی

No comments:

Post a Comment