Tuesday, 22 June 2021

بے وفائی کا حق ادا کر دو

بے وفائی کا حق ادا کر دو

زخم پھر سے کوئی عطا کر دو

قید میں ہوں تمہاری یادوں کے

ہو سکے تو مجھے رہا کر دو

شام ہونے کو ہے چلے آؤ

آج کی شب کو خوشنما کر دو

دل لیا ہے تو جان بھی لے لو

یہ کرم بھی خدا خدا کر دو

بھول کر شکوے اور گلے سارے

عشق کی پھر اسے ابتدا کر دو

گلشن زیست میں ہے ویرانی

آ کر اس کو ہرا بھرا کر دو

عیب جوئی جو کر رہا ہے ثمر

رو برو اس کے آئینہ کر دو


ثمر غازیپوری

محمد مسلم صدیقی

No comments:

Post a Comment