بے وفائی کا حق ادا کر دو
زخم پھر سے کوئی عطا کر دو
قید میں ہوں تمہاری یادوں کے
ہو سکے تو مجھے رہا کر دو
شام ہونے کو ہے چلے آؤ
آج کی شب کو خوشنما کر دو
دل لیا ہے تو جان بھی لے لو
یہ کرم بھی خدا خدا کر دو
بھول کر شکوے اور گلے سارے
عشق کی پھر اسے ابتدا کر دو
گلشن زیست میں ہے ویرانی
آ کر اس کو ہرا بھرا کر دو
عیب جوئی جو کر رہا ہے ثمر
رو برو اس کے آئینہ کر دو
ثمر غازیپوری
محمد مسلم صدیقی
No comments:
Post a Comment