سکوں پایا طبیعت نے نہ دل کو ہی قرار آیا
جو آنسو آنکھ میں آیا بڑا بے اعتبار آیا
کسی کا بانکپن سارے زمانے میں پکار آیا
چمک آنکھوں میں آئی نوکِ مژگاں پر نکھار آیا
مقدر اپنا اپنا ہے گُل و شبنم کی وادی میں
کوئی ہنستا ہوا آیا تو کوئی اشک بار آیا
مجھے کیا واسطہ ہے آپ کے حسنِ تخیل سے
مِری آنکھوں پہ جب آیا مِرے خوابوں کو پیار آیا
تری بے التفاتی کو خدا رکھے، کہ اے ساقی
شرابِ غم سے ہم تشنہ لبوں پر بھی خمار آیا
ہوئے ہیں رنگ و بو دست و گریباں ایسے گلشن میں
نسیمِ صبح کا دامن بھی ہو کر تار تار آیا
دھواں جو بیکسوں کی آہ کا اٹھا تو اے جنبش
چمن والے پکار اٹھے کہ وہ ابرِ بہار آیا
جنبش خیرآبادی
No comments:
Post a Comment