Tuesday, 22 June 2021

سکوں پایا طبیعت نے نہ دل کو ہی قرار آیا

 سکوں پایا طبیعت نے نہ دل کو ہی قرار آیا

جو آنسو آنکھ میں آیا بڑا بے اعتبار آیا

کسی کا بانکپن سارے زمانے میں پکار آیا

چمک آنکھوں میں آئی نوکِ مژگاں پر نکھار آیا

مقدر اپنا اپنا ہے گُل و شبنم کی وادی میں

کوئی ہنستا ہوا آیا تو کوئی اشک بار آیا

مجھے کیا واسطہ ہے آپ کے حسنِ تخیل سے

مِری آنکھوں پہ جب آیا مِرے خوابوں کو پیار آیا

تری بے التفاتی کو خدا رکھے، کہ اے ساقی

شرابِ غم سے ہم تشنہ لبوں پر بھی خمار آیا

ہوئے ہیں رنگ و بو دست و گریباں ایسے گلشن میں

نسیمِ صبح کا دامن بھی ہو کر تار تار آیا

دھواں جو بیکسوں کی آہ کا اٹھا تو اے جنبش

چمن والے پکار اٹھے کہ وہ ابرِ بہار آیا


جنبش خیرآبادی

No comments:

Post a Comment