Friday, 11 June 2021

وہ فاتح تھا اور اپنے گھوڑے کی زین پہ تھا

 فاتح


وہ فاتح تھا

اور اپنے گھوڑے کی زین پہ تھا

چمکتی تلوار اُس کے پہلو کے عین رُخ پر لٹک رہی تھی

زمین اس کے عربی گھوڑے کے سخت سُم سے سمٹ رہی تھی

وہ فاتح تھا

مگر علاقوں کا فاتح تھا

اسے خبر ہی نہیں تھی اس کے عربی گھوڑے کی دو رکابوں میں رکھے پاؤں

کسی کا دل تک کچل چکے ہیں


زہرا بتول

No comments:

Post a Comment