فاتح
وہ فاتح تھا
اور اپنے گھوڑے کی زین پہ تھا
چمکتی تلوار اُس کے پہلو کے عین رُخ پر لٹک رہی تھی
زمین اس کے عربی گھوڑے کے سخت سُم سے سمٹ رہی تھی
وہ فاتح تھا
مگر علاقوں کا فاتح تھا
اسے خبر ہی نہیں تھی اس کے عربی گھوڑے کی دو رکابوں میں رکھے پاؤں
کسی کا دل تک کچل چکے ہیں
زہرا بتول
No comments:
Post a Comment