Friday, 11 June 2021

میں رستے میں جہاں ٹھہرا ہوا تھا

 میں رستے میں جہاں ٹھہرا ہوا تھا

وہیں تو دھوپ کا چہرہ کھلا تھا

وہ کس کے جسم کی خوشبو تھی آخر

ہوا سے تذکرہ کس کا سنا تھا

سمندر میں بہت ہلچل تھی اک دن

سفینہ کس کا ڈوبا جا رہا تھا

کہ جیسے خواب سا دیکھا تھا کوئی

بس اتنا یاد ہے کوئی ملا تھا

کھنڈر میں گھومتی پھرتی تھیں یادیں

اداسی کا عجب منظر سجا تھا

مِری مٹی کی ہمت بڑھ گئی تھی

مِرے رستے میں دریا آ گیا تھا


وفا نقوی

No comments:

Post a Comment