Friday, 4 June 2021

حسب معمول ہوا خاتمہ میرے، دن کا

 حسبِ معمول ہُوا خاتمہ میرے دن کا

شام تک بار اُٹھا لایا میں اپنے دن کا

کیا بُرے دن ہیں کہ گھر کے کسی کونے میں پڑا

دیکھتا رہتا ہوں رستہ کسی اچھے دن کا

غمِ امروز سے فُرصت ہو تو اے دیدۂ نم

ہجر ویسے ہی پڑا ہے ابھی کل کے دن کا

رات آنے پہ درِ خواب کھُلے گا، لیکن

رات آنے میں ابھی وقت ہے سارے دن کا

وقت سے پہلے جو منظر میں زوال آیا تھا

دیکھ اُترا ہوا چہرہ مِرے ڈھلتے دن کا

راستہ شام کا روکے جو کھڑا ہے کب سے

کون یہ کوہِ گراں آ کے ہٹائے دن کا؟


نعیم گیلانی

No comments:

Post a Comment