Friday, 4 June 2021

فریب عشق میں دل کو نثار کر بیٹھے

 فریبِ عشق میں دل کو نثار کر بیٹھے

کسی کی چاہ میں دل سوگوار کر بیٹھے

چلے تھے گھر سے تمنا لیے محبت کی

فضول بات پہ دل بے قرار کر بیٹھے

پرائی آگ میں جلنے سے کچھ نہیں حاصل

بُرے نصیب تھے اپنے جو پیار کر بیٹھے

میں جا رہا ہوں کسی کے گمان سے لیکن

میں لوٹ آؤں گا خود کو سنوار کر بیٹھے

مِرے خیال سے وہ شخص خوب اچھا ہے

جو دل لگی نہ کرے دل کو مار کر بیٹھے

وفا شعار ہوں مخلص ہوں مثلِ گوہر ہوں

ہمارے عیب وہ کب سے شمار کر بیٹھے


گوہر فرید

No comments:

Post a Comment