Wednesday, 2 June 2021

یاد ہے بابا آپ نے جب ہاتھوں میں میرے ہاتھ لیے تھے

ندیم ناجد کی جانب سے گلزار صاحب کا جوٹھا قہوہ پینے کی یاد میں کہی گئی نظم

 جوٹھا قہوہ


یاد ہے بابا

آپ نے جب ہاتھوں میں میرے ہاتھ لیے تھے

میں اس پل کی سرشاری میں بِن ہاتھوں لوٹ آیا ہوں

ہو پائے تو بابا ان کو رحل بنا لیں

غزلیں اور کچھ نظمیں کہہ کر اس میں رکھ دیں

تاکہ میں کچھ روز صحیفوں کی خوشبو میں جی لوں

آپ کے ہاتھ سے لکھے سب لفظوں کا امرت پی لوں

بابا آپ دعا کو آخر خواب کی صورت دے کر

سرحد کے اس پار سے جگنو کب ارصال کریں گے

بابا فرصت ہو تو راوی میں اک نظم بہا دیں

نظم کی اس دھارا میں ہی اب میں اشنان کروں گا

یہ جو کچھ لکھا ہے 

کاش کہ کہہ دیں آپ صحیح ہے

بابا آپ کا جوٹھا قہوہ پی کر نظم کہی ہے


ندیم ناجد

No comments:

Post a Comment