ندیم ناجد کی جانب سے گلزار صاحب کا جوٹھا قہوہ پینے کی یاد میں کہی گئی نظم
جوٹھا قہوہ
یاد ہے بابا
آپ نے جب ہاتھوں میں میرے ہاتھ لیے تھے
میں اس پل کی سرشاری میں بِن ہاتھوں لوٹ آیا ہوں
ہو پائے تو بابا ان کو رحل بنا لیں
غزلیں اور کچھ نظمیں کہہ کر اس میں رکھ دیں
تاکہ میں کچھ روز صحیفوں کی خوشبو میں جی لوں
آپ کے ہاتھ سے لکھے سب لفظوں کا امرت پی لوں
بابا آپ دعا کو آخر خواب کی صورت دے کر
سرحد کے اس پار سے جگنو کب ارصال کریں گے
بابا فرصت ہو تو راوی میں اک نظم بہا دیں
نظم کی اس دھارا میں ہی اب میں اشنان کروں گا
یہ جو کچھ لکھا ہے
کاش کہ کہہ دیں آپ صحیح ہے
بابا آپ کا جوٹھا قہوہ پی کر نظم کہی ہے
ندیم ناجد
No comments:
Post a Comment