Saturday, 19 June 2021

جذبوں کے تقدس کی تجارت نہیں کرتے

 جذبوں کے تقدس کی تجارت نہیں کرتے

ہم لوگ دِکھاوے کی محبت نہیں کرتے

کچھ فیصلے بروقت ہی ہو جائیں تو اچھا

ہم وعدۂ فردا کی سیاست نہیں کرتے

ہر بار دیا اک نئے انداز سے دھوکا

ہر بار مگر تجھ سے شکایت نہیں کرتے

چہرے پہ ندامت تِرے دیکھی نہیں جاتی

ثابت ہو تِرا جُرم یہ چاہت نہیں کرتے

ہوتے کسی دربار کے منصب پہ مقرر

گر حرف معانی سے بغاوت نہیں کرتے

جو آپ سمجھتے ہیں، سمجھ لیجئے مطلب

ہم اپنے اصولوں کی وضاحت نہیں کرتے

ہر شوخ ادا صائمہ اب بھُول چکے ہیں

پنچھی ہوں قفس میں تو شرارت نہیں کرتے


صائمہ کامران

No comments:

Post a Comment