پھر سے وہیں آ گئے ہم
تیرے وعدوں سے پہلے جہاں تھے
اندھیروں میں بستے رہے ہم
اجالوں کے عادی کہاں تھے
پر اب پھر سے وہیں آ گئے ہیں
تیرے وعدوں سے پہلے جہاں تھے
طے کیا تھا کہ رستے میں دونوں
بوجھ کو بانٹ کر پھر چلیں گے
مگر تم بھی اوروں کی طرح
آغازِ سفر تھک گئے ہو
تو دیکھو پھر سے وہیں آ گئے ہم
تیرے وعدوں سے پہلے جہاں تھے
حرا شاہد
No comments:
Post a Comment