Saturday, 12 June 2021

اے محبت تو جسم و جاں سے جا

 درندے کی فریاد


اے محبت تُو جسم و جاں سے جا

تُو جہاں بھی جاپ پر یہاں سے جا

مجھ کو کمزور کر دیا تُو نے

تجھ سے پہلے میں اک درندہ تھا

زندگی چھینتا تھا، زندہ تھا

جب میں چلتا تھا، وقت رکتا تھا

جب میں رُکتا تھا، دوڑتا تھا ہجُوم

میری جُنبش سے لرزتا تھا نجُوم

اب یہ حالت ہے ڈرا رہتا ہوں

اپنے اشکوں میں بھرا رہتا ہوں

ایک آہٹ سے دم نکلتا ہے

سرسراہٹ سے دم نکلتا ہے

حبس ایسا کہ سانس رُکتی ہے

سانس ایسی کہ پھانس ہو جیسے

پھانس ایسی کہ جی نہیں پاتا

پھانس ایسی کہ مر نہیں سکتا


عمران شمشاد

No comments:

Post a Comment