Tuesday, 22 June 2021

گناہ کا ماتم دل پہ جو تاریک سا اک عکس ہے

 گناہ کا ماتم


دل پہ جو تاریک سا اک عکس ہے

نفس کے عفریت کا سایا نہیں

کر چکا ہے وار مجھ پر ایک بار

اب وہ اس نیت سے پھر آیا نہیں

پھنس کے اس کے پنجۂ سفاک میں

مجھ سے جو سرزد ہوا تھا اک گناہ

آج آیا ہے وہی دل کے قریب

بہر ماتم اوڑھ کر رخت سیاہ


اختر بستوی

No comments:

Post a Comment