Tuesday, 22 June 2021

بنا کے رکھا ہے ذہنی مرِیض ہم کو تو

 بنا کے رکھا ہے ذہنی مرِیض ہم کو تو

نہیں ہے زِیست بھی ہرگز عزِیز ہم کو تو

وہ اور تھے کہ جِنہیں دوستی کا پاس رہا

گُماں میں ڈال دے چھوٹی سی چیز ہم کو تو

کہاں کے میر ہیں، پُوچھو فقیر لوگوں سے

نہیں ہے ڈھب کی میسّر قمیض ہم کو تو

بڑوں سے دِل سے عقیدت ہے پیار چھوٹوں سے

خیال کرتے ہو جو بد تمیز ہم کو تو

کسی کے درد کے سانچے میں ڈھل کے دیکھا ہے

پڑے وہ زخم (کہ بس الحفیظ) ہم کو تو

نہ راز، راز کو رکھا، نہ بھید پوشیدہ

خیال پھر بھی کریں سب رمیز ہم کو تو 

رکھو جو درد تو، آہیں بھی اور کچھ آنسو

رشید چاہئیں کچھ خواب نِیز ہم کو تو


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment