صحرا میں مروں گا نہ چمن جا کے مروں گا
اس کوچۂ دشنام میں ہی آ کے مروں گا
اعزاز ہے اک، عشق کی حالت میں گزرنا
اٹھلاؤں گا، اتراؤں گا، لہرا کے مروں گا
کہتے ہیں مجھے لوگ خداوندِ محبت
سو حکمِ وفا حُسن کو فرما کے مروں گا
میں مر بھی چکا کب سے، نہیں مانتا کوئی
اب آپ ہی اس لاش کو دفنا کے مروں گا
اس بار مروں گا میں نئی عمر کی خاطر
اس بار تو مرنے کا صِلہ پا کے مروں گا
ہے نذر تِری گردشِ دوراں مِرا ہر گیت
اک نغمۂ آلام ہے، گا گا کے مروں گا
اس وعدہ فراموش کا وعدہ بھی ہے امشب
رک جا اے قضا آج، میں کل آ کے مروں گا
اسباب و علل خودکشی پہ لکھ کے کوئی خط
میں جب بھی مروں گا تجھے بتلا کے مروں گا
اپنوں کی عنایات بھی کھولوں گا میں تجھ پر
غیروں کے سبھی داؤ بھی سمجھا کے مروں گا
میں حُسن نہیں عشق ہوں پھر بھی سرِ محفل
صد ناز و ادا دلبری دِکھلا کے مروں گا
دیوار میں چُنوا دو مجھے شوق سے لیکن
ہر دل کو بغاوت پہ میں اُکسا کے مروں گا
مل جائیں کہیں اگلے جہانوں میں بھی جا کر
اس واسطے بھی تجھ کو میں اپنا کے مروں گا
بس درد کی شدت سے امر ہوش نہیں ہے
میں اپنے گناہوں کی سزا پا کے مروں گا
امر روحانی
No comments:
Post a Comment