Wednesday, 18 August 2021

ایک بار ہی کر لیں روز خودکشی کیسی

ایک بار ہی کر لیں روز خودکشی کیسی

بے ضمیر لوگوں کے ساتھ زندگی کیسی

جب زکوٰۃ بٹتی ہے اک قطار ہوتے ہیں

شہر کے عمائد میں اتنی مفلسی کیسی

لگتا ہے قیامت اب کچھ ہی فاصلے پر ہے

سورجوں کی آنکھوں میں اتنی تیرگی کیسی

سات پردوں کے پیچھے بھی گرج نہیں سکتے

میں سمجھ نہیں پاتا ہے یہ بے حسی کیسی

میں دعائیں کیا مانگوں علم کے مزاروں سے

ان میں زندگی کتنی ان میں روشنی کیسی


رشید امکان

No comments:

Post a Comment