Friday, 6 August 2021

تمام شہر میں ہے عام کاروبار ہوس

 تمام شہر میں ہے عام کاروبارِ ہوس

کہ چہرے چہرے پہ چسپاں ہے اشتہارِ ہوس

ابھی رگوں میں ہے تلخئ اعتبارِ ہوس

بدن میں ٹوٹ رہا ہے ابھی خمارِ ہوس

جو چل پڑے ہو تو انجام گمرہی سے ڈرو

سپردِ خاک نہ کر دے یہ رہگزارِ ہوس

ہوا ہے گرم نہ کمرے کی کھڑکیاں کھولو

نجانے شہر میں ٹھہرے کہاں غبارِ ہوس

فرار خواہشِ ہستی سے جب نہیں ممکن

نفس کی قید کہیں یا اسے حصارِ ہوس


رئیس الدین

No comments:

Post a Comment