Wednesday, 22 December 2021

عشق میں عشق کا عنواں نہیں دیکھا جاتا

 عشق میں عشق کا عنواں نہیں دیکھا جاتا

درد میں درد کا درماں نہیں دیکھا جاتا

عالمِ خواب پریشاں نہیں دیکھا جاتا

دل کو احساس بہ داماں نہیں دیکھا جاتا

ان سے کہہ دے کوئی وہ موند لیں آنکھیں اپنی

جن سے نیرنگِ گلستاں نہیں دیکھا جاتا

بے خودی میری وہاں لائی جہاں پھر دل سے

عالمِ ہوش کو گریاں نہیں دیکھا جاتا

میری مستی کو جو سمجھے ہیں بنام مستی

ان سے پیمانۂ انساں نہیں دیکھا جاتا

ان خزاں آشنا آنکھوں سے برنگِ فطرت

کیفِ ہنگامِ بہاراں نہیں دیکھا جاتا

زیب کیا ہے یہ نظامِ غمِ دوراں توبہ

انقلابِ غمِ دوراں نہیں دیکھا جاتا


زیب بریلوی

No comments:

Post a Comment