Monday, 13 December 2021

حادثے سب بے سبب کیسے ہوئے

 حادثے سب بے سبب کیسے ہوئے

بہتے دریا تشنہ لب کیسے ہوئے

گھر سے باہر بھی مہذب لوگ ہیں

میرے بچے بے ادب کیسے ہوئے

جنگلوں کے باسیوں کو کیا خبر

حادثات شہر کب، کیسے ہوئے

سیکڑوں تھے شہر میں سورج بدن

چاند تارے منتخب کیسے ہوئے

کوئی تو ہوتا مِرا پُرسانِ حال

بے مروت سب کے سب کیسے ہوئے

شہر میں تو اور بھی رہتے ہیں یار

ہم پہ ہی قہر و غضب کیسے ہوئے

ڈگریاں تو چند ہی لوگوں پہ تھیں

شہر میں اتنے مطب کیسے ہوئے


ریاض حنفی

No comments:

Post a Comment