دل کی ہر بات تِری مجھ کو بتا دیتی ہے
تیری خاموش نظر مجھ کو صدا دیتی ہے
دور رہنا مجھے منظور نہیں ہے تجھ سے
زندگی ساتھ تِرے مجھ کو مزا دیتی ہے
اپنی کُٹیا کے اندھیرے کو مٹاؤں کیسے
وہ مِرے دیپ کو زلفوں سے ہوا دیتی ہے
تیری یہ ہی تو ادا بھاتی ہے جاناں مجھ کو
جب نظر سامنے میرے تُو جھکا دیتی ہے
عشق کا روگ لگا ہے کئی برسوں سے مجھے
کس لیے مجھ کو یہ پھر دنیا دوا دیتی ہے
امبر جوشی
No comments:
Post a Comment