شکرِ پروردگار کر لوں گی
جب میں دیدارِ یار کر لوں گی
اُس کی بانہوں کو ہار کر لوں گی
اِس طرح میں سنگھار کر لوں گی
وہ مِرے ساتھ ہو تو پت جھڑ پر
اعتبارِ بہار کر لوں گی
جس روش پر صنم چلائے گا
وہ روش اختیار کر لوں گی
دل دیا ہے تو اُس کے وعدے پر
عمر بھر انتظار کر لوں گی
وہ اگر مجھ سے روٹھ جائے گا
منتیں بھی ہزار کر لوں گی
ہمسفر ہو کوئی تو اے عرشی
طے ہر اک رہگزار کر لوں گی
عروسہ عرشی
No comments:
Post a Comment