آتا ہے نظر ان کا کردار اندھیرے میں
پوری طرح کھلتے ہیں سرکار اندھیرے میں
جب جب سنی پائل کی جھنکار اندھیرے میں
پیروں میں نظر آئی دستار اندھیرے میں
قربان نہ کیوں جاؤں اس حسن سلیقہ پر
انکار اجالے میں،۔ اقرار اندھیرے میں
یہ حسن کی عادت ہے یہ حسن کی فطرت ہے
کرتے ہیں یہ تیروں کی بوچھار اندھیرے میں
ڈھاتی ہے ستم کیا کیا زلفوں کی درازی بھی
لڑکی نظر آتا ہے سردار اندھیرے میں
یہ سوٹ پٹھانی بھی کیا خوب چلا یارو
دھوکا ہمیں دیتی ہے شلوار اندھیرے میں
ہم جیسے کے پاس آنا پڑتا ہے رضی اس کو
ہوتا ہے جو الجھن سے دوچار اندھیرے میں
رضی امروہوی
No comments:
Post a Comment