Friday, 10 December 2021

آتا ہے نظر ان کا کردار اندھیرے میں

آتا ہے نظر ان کا کردار اندھیرے میں

پوری طرح کھلتے ہیں سرکار اندھیرے میں

جب جب سنی پائل کی جھنکار اندھیرے میں

پیروں میں نظر آئی دستار اندھیرے میں

قربان نہ کیوں جاؤں اس حسن سلیقہ پر

انکار اجالے میں،۔ اقرار اندھیرے میں

یہ حسن کی عادت ہے یہ حسن کی فطرت ہے

کرتے ہیں یہ تیروں کی بوچھار اندھیرے میں

ڈھاتی ہے ستم کیا کیا زلفوں کی درازی بھی

لڑکی نظر آتا ہے سردار اندھیرے میں

یہ سوٹ پٹھانی بھی کیا خوب چلا یارو

دھوکا ہمیں دیتی ہے شلوار اندھیرے میں

ہم جیسے کے پاس آنا پڑتا ہے رضی اس کو

ہوتا ہے جو الجھن سے دوچار اندھیرے میں


رضی امروہوی

No comments:

Post a Comment