Thursday, 16 December 2021

کیا بتاؤں کہ آنکھ کیوں نم ہے

 کیا بتاؤں کہ آنکھ کیوں نم ہے

کس قدر بے رخی کا عالم ہے

کم نہیں حسن میں کشش تیرے

بستگی دل کی بھی کہاں کم ہے

ابر چھایا ہے کرب اور غم کا

دیدہ احساس کا بھی پُر نم ہے

مشکلیں لاکھ آئیں راہوں میں

ساتھ اس کا ملا یہ کیا کم ہے

لاکھ کوئی رکھے حسد عالم

ہم کو اس کا کوئی کہاں غم ہے


عالم فیضی

No comments:

Post a Comment