کتابِ خواہش کا آخری باب لکھ رہا ہوں
وصالِ موسم کی سطر نایاب لکھ رہا ہوں
ورق ورق اب یہی تو سچائی بولتی ہے
میں دشمنوں کو مثالِ احباب لکھ رہا ہوں
یہ میرے ساتھی جو کربلا میں گھرے ہوئے ہیں
میں ان کی خاطر فرات پر آب لکھ رہا ہوں
مِری کتابِ سخن کا یہ ابتدائیہ ہے
میں بارشِ سنگ میں گلِ خواب لکھ رہا ہوں
مِرے لہو کی لغت کا یہ معجزہ ہے شوکت
نئی غزل کا نصاب شاداب لکھ رہا ہوں
شوکت ہاشمی
No comments:
Post a Comment