Saturday, 4 December 2021

دھواں یہاں سے جو دکھ رہا ہے

 دھواں یہاں سے جو دِکھ رہا ہے

ابھی اٹھا ہے

جھلس گئے ہیں جو چاند چہرے

ابھی یہیں تھے

یہیں کہیں تھے

مثالِ انجم دمک رہے تھے

چمک رہے تھے

جو مر گئے ہیں پلک جھپکتے

وہ میری آنکھوں کی روشنی تھے

وہ زندگی تھے

وہ زندگی تھے


پيرزادہ سلمان

No comments:

Post a Comment