ہو گئے ہر طرح برباد، اجی سنتے ہو
بنے بیٹھے ہو خود استاد، اجی سنتے ہو
شاعری کرتے رہے بچوں کو دیکھا ہی نہیں
یوں نکمی ہوئی اولاد، اجی سنتے ہو
تم نے تو گھر کو بھی چوپال بنا رکھا ہے
روز بڑھ جاتے ہیں افراد، اجی سنتے ہو
خالی باتوں سے تو گھر بار چلا کرتا نہیں
میرے کس کام کی یہ داد،اجی سنتے ہو
شاعری ایسی بلا ہے میاں جس کے ہاتھوں
ہو گئے کتنے ہی برباد، اجی سنتے ہو
ذکر کب ہوتا ہے پرویز کا اس دنیا میں
اب نہ شیریں ہے نہ فرہاد، اجی سنتے ہو
نوٹوں میں کھیلتے ہیں آج تمہارے چیلے
تم ہو بس نام کے استاد، اجی سنتے ہو
آ گئیں کتنے ہی چیلوں کی کتابیں چھپ کر
کیا چھپی آپ کی روداد، اجی سنتے ہو
جو بھی کہنا تھا وہ سب کہہ گئے میر و غالب
کیا تمہیں یہ بھی نہیں یاد، اجی سنتے ہو
الٹی سیدھی نہ کرو شاعری اب تو للّٰہ
پیچھے پڑ جائیں گے نقاد، اجی سنتے ہو
فاعلاتن کی بہت سنتی رہی ہوں گردان
اب کراؤں گی میں میلاد، اجی سنتے ہو
شاعرات اتنی لگا رکھی ہیں پیچھے تم نے
بیٹھی رہتی ہوں میں ناشاد، اجی سنتے ہو
تم نہیں سُدھرے تو گھر بھائی کے اپنے اک دن
میں چلی جاؤں گی بغداد، اجی سنتے ہو
بات کرنی ہے ضروری ذرا اندر آؤ
غصے میں بیٹھا ہے داماد، اجی سنتے ہو
آج بیوی کے رضی اچھے لگے یہ الفاظ
سنا ہے کتنے دنوں بعد، اجی سنتے ہو
رضی امروہوی
No comments:
Post a Comment