Wednesday, 8 December 2021

یہ نہیں کہتا کہ لکھتا ہوں انوکھے الفاظ

 یہ نہیں کہتا کہ لکھتا ہوں انوکھے الفاظ

دعوتِ فکر مگر دیتے ہیں میرے الفاظ

باوجودِ کہ نظر آتے ہیں کالے الفاظ

ظلمتِ جہل میں کرتے ہیں اجالے الفاظ

قطعہ

کشورِ فکر و معانی کے خزینے الفاظ

خاتمِ نظق میں ہیرے کے نگینے الفاظ

قصرِ اِبلاغ کی قائم ہے انہی پر بنیاد

بامِ تفہیم کے بن جاتے ہین زینے الفاظ

مختلف روپ ہیں ابجد کے جگر پاروں کے

کبھی شبنم کے مماثل کبھی شعلے الفاظ

کہنے والا نہ رہے لفظ مگر رہتے ہیں

فنا ہوجاتے ہیں انساں نہیں مرتے الفاظ

یہ تو ممکن ہے کہ افکار میں جدت نہ رہے

معجزہ ہے کہ نہیں ہوتے پرانے الفاظ

بن کے مرہم دلِ مجروح کا کرتے ہیں علاج

اور کبھی زخم لگاتے ہیں کٹیلے الفاظ

میں نے سینچا ہے انہیں خونِ جگر سے اپنے

یہ مرے نورِ نظر ناز کے پالے الفاظ

کتنے چنچل ہیں یہ حرفوں کے بنے ہیں گویا

میرے قابو میں نہیں آتے تمہارے الفاظ

اس تمنا میں انہیں فخرِ نگارش بخشوں

باندھ کر ہاتھ کھڑے رہتے ہیں سارے الفاظ

بات اتنی ہے برتنے کا ہنر آتا ہو

ورنہ اے خامۂ فن تیرے نہ میرے الفاظ

ناز ہے مجھ کو کسی ظالم و خود بیں کے لیے

للہ الحمد ستائش کے نہ لکھے الفاظ

قطعہ

آیتِ ’والشعراء‘ کے ہیں مخاطب وہ لوگ

جن کے اشعار کی زینت نہیں سچے الفاظ

مجھ سے بے حرمتیِ لفظ نہ دیکھی جائے

میرے معبود زمانے سے اٹھالے الفاظ

حادثہ کیا کوئی گزرا ہے نیا تجھ پہ نعیم

زہر میں آج بجھے لگتے ہیں تیرے الفاظ


نعیم حامد

No comments:

Post a Comment