تا ابد حاصل ازل ہوں میں
یا فقط لقمۂ اجل ہوں میں
خود کو بھی خود سے ماورأ چاہوں
اپنی ہستی میں کچھ خلل ہوں میں
میرا ہر مسئلہ اسی کا ہے
اس کے ہر مسئلے کا حل ہوں میں
اس کی آنکھوں کا آئینہ خانہ
جھیل میں جیسے اک کنول ہوں میں
گنگناتی رہی جسے پنہاں
مجھ کو لگتا ہے وہ غزل ہوں میں
ڈاکٹر سکینہ پنہاں
No comments:
Post a Comment