Thursday, 9 December 2021

درد تھا حشر بھی ہزار اٹھے

 درد تھا حشر بھی ہزار اٹھے

سچ نہ بولیں تو رسمِ دار اٹھے

اے غمِ عشق تجھ سے ہار گئے

جان دے کر بھی شرمسار اٹھے

جانے کس درد کے تعلق سے

رات دشمن کو ہم پکار اٹھے

اب تو اس زلف کی گھٹا چھا جائے

دل سے کب تک یوں ہی غبار اٹھے


تاج بھوپالی

No comments:

Post a Comment