Monday, 6 December 2021

کچھ دیر کے لیے سو جانے دو

 سوتا ہوں 


بہت دیر ہو گئی

یوں جاگتے جاگتے

ایسا لگتا ہے جیسے بوڑھا ہو گیا ہوں

یا ہم وہ ہیں جنہیں بوڑھا ہی جنا گیا

ہاتھ پاؤں بھی جواب دے رہیں ہیں

ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دے رہا

آنکھیں جیسے دھوندھیا گئیں ہوں

شاید

آنسو ہیں

پلکوں کی دہلیز بھی پار نہیں کر پا رہیں

اب تو جانے دو

کچھ دیر کے لیے سو جانے دو

جانے یوں کہ ابھی کہیں سے

وہ اک فرشتہ میرے تعاقب میں آ نکلے

تھوڑی سی نیند پوری کر لوں

پھر اس کے ساتھ بھی جانا ہے


زیف ضیا 

No comments:

Post a Comment