Sunday, 12 December 2021

شعر کہنا کہاں سہل ٹھہرا

 شعر کہنا کہاں سہل ٹھہرا

تیری زلفوں کا ایک بل ٹھہرا

عمر بھر سر جسے نہ کر پایا

تُو محبت کا وہ جبل ٹھہرا

تیرے دل میں مِری محبت ہے

یہ مِرے ذہن کا خلل ٹھہرا

تیرے پاؤں میں ہے بھنور شاید

آج ٹھہرا ہے تُو نہ کل ٹھہرا

میرا جانا اشد ضروری ہے

تیرا اصرار ہے تو چل ٹھہرا

دور ہو جائیں ہم سدا کے لیے

اپنی رنجش کا کیسا حل ٹھہرا

اب نہ تجدیدِ دوستی ہو گی

فیصلہ یہ تِرا اٹل ٹھہرا

میں نے تبدیل کر کے دیکھا ہے

درد ہی درد کا بدل ٹھہرا

میرے اشکوں کی قدر کون کرے

مسکرانا تِرا غزل ٹھہرا

آ گیا ہے تُو لوٹ کر عابد

یہ مِرے صبر کا ہی پھل ٹھہرا


ایس ڈی عابد

No comments:

Post a Comment