Sunday, 12 December 2021

اس کو نہ چھو سکے کبھی رنج و بلا کے ہاتھ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


اس کو نہ چھو سکے کبھی رنج و بلا کے ہاتھ

اٹھے ہیں جس کے حق میں رسولِ خدا کے ہاتھ

بھیجا گیا ہے دین رسولِ خداﷺ کے ہاتھ

ایسا چراغ، دُور ہیں جس سے ہوا کے ہاتھ

دیکھوں گا جب بھی روضۂ اقدس کی جالیاں

چُوموں گا فرطِ شوق سے پیہم لگا کے ہاتھ

گیسوئے مصطفیﷺ سے یقیناً ہوئی ہے مس

خوشبو کہاں سے آئی یہ بادِ صبا کے ہاتھ

خاطر میں کب وہ لائے گا شاہانِ وقت کو

اٹھتے ہوں صرف ان کی طرف جس گدا کے ہاتھ

محشر میں مجھ پہ سایۂ لطفِ رسول ﷺ ہو

میں یہ دعائیں مانگ رہا ہوں اُٹھا کے ہاتھ

ممکن نہ تھا کہ روضۂ اقدس کو چُھو سکیں

آگے بڑھا دیا ہے نظر کو بنا کے ہاتھ

بے حد و بے شمار خطائیں سہی، مگر

کچھ غم نہیں کہ لاج ہے اب مصطفیٰ کے ہاتھ

ہم عاصیوں کے آپﷺ ہی تو دستگیر ہیں

ہم سب کا آسرا ہیں شہِ انبیاء ﷺ کے ہاتھ

میں ہوں گدائے کوچۂ آلِ نبیﷺ نصیر

دیکھے تو مجھ کو نارِ جہنم لگا کے ہاتھ


سید نصیرالدین نصیر

No comments:

Post a Comment